مسجد بھونگ – رحیم یار خان

0
(0)

پاکستان کی مشہور مساجد میں سے ایک مسجد بھونگ ہے۔بھونگ مسجد بہاولپور ڈویژن،ضلع رحیم یار خان کی تحصیل صادق آباد سے تقریبا بیس کلو میٹر کے فاصلے پر واقع ہے۔ سردار رئیس غازی محمد نے یہ مسجد انیس سو بیس میں تعمیر کروانا شروع کی۔ آپ کے جدامجد حضرت بہاؤالدین ذکریا رحمۃ اللہ علیہ کے خلفاء میں سے تھے ۔غازی محمد اعزازی مجسٹریٹ اور بہاولپور اسمبلی کے رکن بھی رہے۔ دولت ہونے کے باوجود انہوں درویشانہ زندگی گزاری۔ سماجی کاموں اور مختلف علاقوں میں مساجد کی تعمیر ان کی زندگی کا مشن رہا۔

Map

رئیس غازی محمد نے اپنے گھر کے قریب 1932 میں بھونگ مسجد کی تعمیر کے لئے نہ صرف ہدایت دیں بلکہ کثیر سرمایہ کے ساتھ ساتھ اس کی مکمل نگرانی بھی کی۔ مسجد کی تعمیر کی نگرانی کے لیے خاص طور پر ماسٹر عبدالحمید صاحب کو مقرر کیا جنہوں نے نہایت محنت اور توجہ سے مسجد کی نگرانی کی۔ مسجد کی تعمیر کے لیے آسٹریا، ہنگری، اٹلی اور دیگر ممالک سے سنگ سرخ، رنگ مرمر اور سنگ سیاہہ منگوائے۔ پتھروں کو تراشنے والوں، ٹائلوں پر پھول بنانے والوں، ان پر میناکاری اور خطاطی کرنے والوں، صندل کی لکڑی پر باریک اور نفیس کام کرنے والوں کرنے والوں، سونے کے پھول بنانے والوں سینکڑوں کاریگروں کی خدمات حاصل کیں۔

No photo description available.
No photo description available.

یہ مسجد 1932 سے 1982 تک تقریبا پچاس سال کے عرصہ میں مکمل ہوئی۔ ان پچاس سالوں میں ہزاروں کاریگروں نے اس کی تعمیر میں حصہ لیا۔جن کا تعلق زیادہ تر پاکستان اور بھارت سے تھا۔مسجد کے دوران کئ کاریگر عمر رسیدہ ہوگئے۔ کئی انتقال کرگئے۔ کئی مزدوروں کے بیٹوں اور پوتوں نے یہ ذمہ داری سنبھالی۔یوں تین نسلوں نے اس مسجد کی تعمیر میں حصہ لیا۔مزدوروں کو کاریگری اور تجربہ کی بنا پر اجرت دی جاتی۔ ماہر کاریگروں کو ہر طرح سے خیال رکھا جاتا بلکہ ان کے بچوں کی شادیوں کے اخراجات غازی محمد ادا کرتے۔ مسجد کی تعمیر میں میں مصروفِ مزدور کے قیام و طعام کا انتظام بھی بھونگ شہر میں کیا گیا۔

No photo description available.
No photo description available.

اس دور میں صادق آباد سے بھونگ شہر تک مناسب سواری اور راستے کا بندوبست نا تھا۔مشکل سے بھاری مشینری کو اس مقام تک لایا جاتا۔مسجد کو بنانے کیلیے کسی قسم کا نقشہ تیار نہیں کیا گیا تھا۔اس سادہ سا خاکہ رئیس غازی محمد کے ذہن میں تھا۔وہ مختلف ممالک کی مسجد میں جاتے وہاں کی مساجد دیکھتے اور جو چیز انہیں پسند آتی اسکے مطابق اس مسجد کی عمارت میں تبدیلی کرواتے۔ یوں عمارت کے کی حصوں کو دوبارہ بلکہ سہ بار بنوایا گیا۔

Image may contain: outdoor

Image may contain: outdoor and water

1950میں نئے مسئلہ کی نشاندہی ہوئ۔سیم کے باعث اس وقت تک مسجد کی جتنی عمارت تعمیر ہوچکی تھی اسے ضعیف کیا گیا۔اور بیس فٹ اونچا ایک چبوترہ بناکر اس پر اس مسجد کی تعمیر کی گئ۔اسطرح مسجد کی مضبوطی کے ساتھ ساتھ اس کی خوبصورتی میں بھی اضافہ ہوا۔مسجد کی تعمیر کے دوران ہی رئیس غازی محمد 1975 میں فوت ہوگئے۔ انکے بعد انکے بیٹوں صاحبزادہ رئیس شبیر احمد اور رئیس وزیر احمد نے مسجد کی تعمیر کے کام کو دیکھا۔ جو خود بھی والد صاحب کی طرح درویش صفت تھے۔

اسکی خوبصورتی اور انفرادیت کے باعث یہ سیاحت کے شوقین لوگوں کیلیے دلچسپی کا باعث رہی ہے۔1981 میں تعمیر کے شعبہ میں اسے آغا خان ایوارڈ سے نوازا گیا۔12 مئی 2004 کو حکومت پاکستان نے اس مسجد کی تصویر والا ٹکٹ بھی جاری کیا۔اس مسجد میں وسیع دارالمطالعہ، مدرسہ اور ہجرہ بھی موجود ہے۔جہاں رئیس غازی محمد عبادت کیا کرتے تھے۔

مسجد میں داخل ہونے والا مرکزی دروازہ مشہد میں حضرت امام رضا کے صدر دروازے کی طرح تعمیر کروایا گیا ہے۔اندر کئ ایکڑ پر صحن موجود ہے۔یہاں بیک وقت دو ہزار نمازی نماز ادا کرسکتے ہیں۔ایک بڑے گنبد کے نیچے خواتین کیلیے نماز کی جگہ مختص کی گئی ہے جسے خواتین کی مسجد جمعہ بھی کہا جاتا ہے۔مسجد کے تمام دروازے ہاتھی کے نفیس اور خوبصورت دانتوں سے مزئین ہیں۔اس میں موجود برآمدہ اٹھارہ ستونوں پر مشتمل ہے۔ہر ستون ایک ہی جیسے قدرتی رنگ پر مشتمل ہے۔جس کی اونچائی آٹھ فٹ بلند ہے۔مرکزی محراب کی تزئین و آرائش کیلیے خالص سونا ، چاندی اور پتھر استعمال کیا گیاہے۔ صندل کی لکڑی کا انتہائی نفیس کام ، دلکش گل کاری کے باعث یہ مسجد سیاحوں کی توجہ کا مرکز رہتی ہے۔

How useful was this post?

Click on a star to rate it!

Average rating 0 / 5. Vote count: 0

No votes so far! Be the first to rate this post.

As you found this post useful...

Follow us on social media!

We are sorry that this post was not useful for you!

Let us improve this post!

Tell us how we can improve this post?

Hi Reader ! Want to Sign-up for Newsletter ?

We don’t spam! Read our privacy policy for more info.

Let's Chat with Author: Sibghatullah Baig
trvaler, biker
Post Disclaimer & Copyrights

The information contained in this post is for general information purposes only. The information is provided by author of مسجد بھونگ - رحیم یار خان and while Travel Guide Pakistan endeavor to keep the information up to date and correct, we make no representations or warranties of any kind, express or implied, about the completeness, accuracy, reliability, suitability or availability with respect to the information or related graphics contained on the post for any purpose.

For any copyright claim violated by blogger contact travel guide Pakistan through contact tab

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

error: Content is protected !!