پسنی بلوچستان، کا پُراسرار و قدیم تاریخی قبرستان

5
(1)

قدیم تہذیب و تمدن کے صرف آثار اور باقیات دیکھ کر آسانی سے اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ تہذیب و تمدن اور عقل و شعور کا تعلیم سے کوئی گہرا تعلق نہیں ہے۔ بلوچستان میں قدیم تہذیب و تمدن کے ایسے آثار ملتے ہیں کہ انسانی عقل دنگ رہ جاتی ہے۔ بلوچستان کے ساحلی علاقوں میں موجود قدیم تہذیب و تمدن کے آثار کے بارے میں جستجو اور تحقیق نہ ہونے کی وجہ سے بعض آثار کی درست تاریخ معلوم کرنا بھی خود ایک پراسراریت ظاہر کرتا ہے۔

بیس سال پہلے جب میں گاؤں سے ہجرت کر کے پسنی شہر منتقل ہوا تو اپنے گھر سے چند کلومیٹر دور ایک قدیم قبرستان کو پراسراریت کے ساتھ پایا۔ بچپن میں ہمیں اس قبرستان میں گھر والے اس لیے جانے نہیں دیتے تھے کیونکہ ان کے خیال میں یہاں جنات اور بھوت بسیرا کرتے ہیں۔ ماضی میں ایک درجن گھرانے پر مشتمل اس علاقے کی آبادی اب ہزاروں نفوس پر مشتمل ہو چکی ہے۔ مقامی آبادی اور قبرستان کا فاصلہ صرف چند فٹ رہ گیا ہے۔ وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ یہ قدیم قبرستان بھی مقامی لوگوں کی نظر میں اب پراسرار نہیں رہا کیونکہ اب قبرستان سے محض چند فرلانگ کے فاصلے پر لوگ رہائش پذیر ہیں

Image may contain: outdoor

جب زندگی سے تھک ہار کر بوریت کا احساس ہوتا ہے تو میں اس قبرستان کا رخ کرتا ہوں، یہ جاننے اور جستجو کی کوشش میں کہ اس قدیم اور تاریخی قبرستان میں کون لوگ ابدی نیند سو رہے ہیں؟۔

پسنی کے جنوب مغربی علاقہ ببرشور کی ایک پہاڑی کو مقامی لوگ ”دیگان“ کے نام سے جانتے ہیں۔ دیگان بلوچی الفاظ ”دیھہ“ اور ”گان“ کا مجموعہ ہے، جس کا مطلب بھوتوں کا مسکن ہے۔ اس حوالے سے ایک مقامی روایت ہے کہ ماضی میں یہ علاقہ بھوتوں کا عارضی مسکن رہا ہے۔ دیگان پہاڑی کے دامن میں ایک پتھریلے ٹیلے پر موجود یہ تاریخی اور قدیم قبرستان موجود ہے، جس کے بارے میں جستجو اور تحقیق کر کے ان قبروں کی درست تاریخ اور معلومات حاصل کی جا سکتی ہے۔ یہ کھوج لگانا مقامی لوگوں کے بس کی بات نہیں۔

یہ قبرستان پسنی کے باقی قبرستانوں سے اس حوالے سے الگ ہے کہ یہاں قبروں کو نقش و نگار کر کے بنایا گیا ہے۔ مختلف ڈیزائن سے بنائی گئی قبروں میں مرد، عورت اور بچوں کی قبریں موجود ہیں۔ ان قبروں کے حوالے سے بعض آرا یہ بھی ہیں کہ یہ سولہویں صدی میں کلمت میں آباد کلمتی قبائل کے مقبرے ہو سکتے ہیں۔

بعض تاریخی دستاویزات میں یہ آرا موجود ہیں کہ سولہویں صدی میں پسنی سے 70 کلومیٹر دور کلمت میں حمل جیئند اور پرتگیزیوں کے مابین لڑائی ہوئی تھی اور میر حمل جیئند کو پرتگیزیوں کے ہاتھوں شکست ہوئی تھی۔ پرتگیزی لوٹ ماری کے لیے مکران کے ساحل پہ آئے تھے جن کا مقابلہ یہاں کے سپہ سالار میر حمل جیئند سے ہوا تھا۔ معروف بلوچ محقق اور مصنف ڈاکٹر حمید بلوچ کے مطابق ”دیگان“ میں موجود یہ قبرستان سولہویں صدی کے کلمتی قبائل کے ہو سکتے ہیں، کیونکہ اس وقت پسنی سے ملحقہ علاقے میں کلمتی قبائل آباد تھے۔

Image may contain: outdoor and nature

اب تک ان مقبروں کے حوالے سے جتنی آرا اور روایت پائی جاتی ہیں، ان میں مضبوط رائے یہی ہے کہ یہ قبریں سہولویں صدی کے کلمتی قبائل کی ہو سکتی ہیں۔جبکہ اس طرح کا ایک قبرستان کراچی سے متصل بلوچستان کے صنعتی شہر حب میں بھی ”بھوانی“ قبرستان کے نام سے موجود ہے، جس کے بارے میں مختلف محققین اور مؤرخین کا کہنا ہے کہ حب میں موجود ”بھوانی“ قبرستان کلمتی قبائل کا ہے اور غالباً سترہویں صدی عیسوی کا ہے۔پسنی کے علاقہ ”دیگان“ اور قرب و جوار میں کوئی ایسے آثار یا باقیات نہیں پائے جاتے ہیں کہ چار یا پانچ صدی پہلے اسی علاقے میں کوئی آبادی موجود تھی۔

پسنی کے ”دیگان” قبرستان میں جن ریتلے پتھروں کو تراشنے کے بعد نقش و نگار کر کے یہ مقبرے بنائے گئے ہیں۔ اس طرح کے پتھر پسنی کے پہاڑ ”ذرین“ اور پسنی سے سے 60 کلومیٹر دور ”شمال بندن“ کے پہاڑی سلسلہ میں موجود ہیں۔ یہ بھی امکان ہے کہ یہ رتیتلے پتھر ”ذرین“ یا شمال بندن کے پہاڑی سلسلے سے لائے گئے ہوں جنھیں تراش کر مقبروں پہ نقش و نگار کیا گیا ہے۔ اس سے یہ ظاہر ہوتی ہے کہ یہ لوگ سنگ تراشی میں ماہر تھے۔ کیونکہ مختلف ڈیزائن کے نقش و نگار کے ذریعے پتھروں کو تراش کر ایک دوسرے سے جوڑا گیا ہے۔

Image may contain: outdoor and nature

ندہ قومیں اپنے قدیم تہذیب و تمدن کے آثار کو محفوظ کرتی ہیں تاکہ آنے والی نسلوں کو اپنے قدیم تہزیب و تمدن کا پتہ چل سکے۔ اس لیے پسنی میں موجود ”دیگان“ کا قدیم اور تاریخی قبرستان جو کہ ایک قدیم ورثہ ہے، اس پر مزید تحقیق کر کے اسے محفوظ بنانے کی ضرورت ہے۔

How useful was this post?

Click on a star to rate it!

Average rating 5 / 5. Vote count: 1

No votes so far! Be the first to rate this post.

As you found this post useful...

Follow us on social media!

We are sorry that this post was not useful for you!

Let us improve this post!

Tell us how we can improve this post?

Hi Reader ! Want to Sign-up for Newsletter ?

We don’t spam! Read our privacy policy for more info.

Let's Chat with Author: Shahab Ud Din Baloch
Tell us something about yourself.
Post Disclaimer & Copyrights

The information contained in this post is for general information purposes only. The information is provided by author of پسنی بلوچستان، کا پُراسرار و قدیم تاریخی قبرستان and while Travel Guide Pakistan endeavor to keep the information up to date and correct, we make no representations or warranties of any kind, express or implied, about the completeness, accuracy, reliability, suitability or availability with respect to the information or related graphics contained on the post for any purpose.

For any copyright claim violated by blogger contact travel guide Pakistan through contact tab

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

error: Content is protected !!